Tuesday, February 18, 2025

اظہار تشکر

  میری پیدائش ایک ہیلتھ سینٹر میں ہوئی تھی، جس میں کراچی سے تعلق رکھنے والی دو خواتین سسٹرز، یعنی اس دور کے نرسز، کام کر رہی تھیں۔ ان کے چہرے اور لہجے بھول چکا ہوں۔ امی کو شائد اب بھی یاد ہوں۔ بہت سال قبل گھر میں موجود ان کی تصویریں دیکھنے کے باعث پردہ خیال پر ان کی شکلوں کے خاکے سے بنے ہوے ہیں۔

آپ سوچیں گے کہ ہیلتھ سینٹر میں پیدا ہونا کونسے بڑے اعزاز کی بات ہے۔ بے شک۔  آپ کی بات درست ہے

لیکن، یہ ۱۹۸۲ کی بات ہے جب پورے گلگت بلتستان میں صحت کی سہولیات، بالخصوص ماوں اور بچوں کے لئے، نہ ہونے کے برابر تھیں۔کچھ لوگ کہیں گے کہ گلگت بلتستان میں تو صحت عامہ آج بھی اُسی حالت میں ہے تو ایک محتاط حد تک شائد میں ان کا حامی بھروں گا۔

گزشتہ چند سالوں سے سیاحت کے شوقین حضرات وخواتین، اور دیگر جنس والے، گلگت بلتستان کے چپے چپے میں سکون، حسن اور ایڈوینچر کی تلاش میں آتے تھے۔ لیکن، کراچی سے تعلق رکھنے والی یہ خواتین ہنزہ کے بالائی علاقے میں واقع دور افتادہ گاوں میں چالیس سے زائد سال قبل، جہاں اُس وقت نہ بجلی تھی، نہ ذرائع مواصلات، نہ ہی کوئی اور جدید سہولیات زندگی، بالآخر کیا کرنے آئی تھیں؟

ان خواتین اور اس ہیلتھ سینٹر کی اس دورافتادہ گاوں میں موجودگی کا پسِ منظر اور اس سے جڑے دیگر حقائق بیان کرنے کی کوشش کر رہاہوں۔

آخرتک جُڑے رہیں۔

علاقے کا پس منظر یہ تھا کہ ۱۹۷۴ میں ہنزہ کی بعض حوالوں کے مطابق ہزار سال پرانی ریاست بھٹو کے ہاتھوں تحلیل ہوچکی تھی۔ میروں کے جانے کے بعد بیوروکریٹس ہمارے حکمران بن چکے تھے، جبکہ اصل حکمران پینشن گزار ہونے کے بعد جمہوری انتخابات کے ذریعے ایک بار پھر حلقہ حکمرانی میں شامل ہونے کی تگ و دو کر رہے تھے۔ سقوط ہنزہ ایک بہت بڑا تاریخی واقعہ تھا، جس کے منفی اثرات دھیرے دھیرے عیاں ہو رہے ہیں۔ ہزاروں سالوں سے ایک ہی نظام سے بندھے لوگ اچانک بے یقینی اور مکمل طور پر نئی سماجی و سیاسی منظر نامے کا حصہ بن چکے تھے۔ لیکن ۱۹۷۴ میں سقوط ریاست ہنزہ سے پہلے بھی ایک بڑا کام ہو چکا تھا۔

۱۹۴۸ میں علاقے میں ایک ڈائمنڈ جوبلی سکول کا قیام عمل میں آیا تھا، جس کے بعد گنے چنے افراد پڑھنا لکھنا جان گئے تھے۔ شنید ہے کہ انہیں ڈائمنڈ جوبلی سکولز اس لئے کہا جاتا تھا کہ یہ آغا خان سوئم، جہیں ان کے مریدوں اور معتقدین نے ہیروں میں تولا تھا، کی ہدایت کے مطابق ان کی مالی امداد کے نتیجے میں آئی تھیں۔ یہ بھی یاد رہے کہ ۱۹۴۷ میں مملکت پاکستان وجود میں آچکا تھا، اور ہنزہ کے حکمرانوں نے پاکستان میں شمولیت کی خواہش کا اعلان بذریعہ ایک خط کیا تھا۔یہ الگ بات ہے کہ اس اعلان پر آج تک عملدرآمد نہیں ہوسکا ہے۔ کچھ لوگ تو خط کو ہی جعلی سمجھتے ہیں!

۱۹۴۸ میں سکولوں کے قیام سے لے کر میری پیدائش تک ڈیڑھ نسلیں گزر چکی تھیں۔میرے والد صاحب، تایا، چچا اورخاندان اور گاوں، بلکہ سارے علاقے کے تقریباً ہر خاندان کے کچھ افراد کراچی اور ملک کی مختلف کالجز اور جامعات سے فارغ التحصیل ہوچکے تھے۔ اس دوران سرکاری تعلیمی ادارے بھی قائم ہوچکے تھے، جس سے تعلیم کو مزید فروغ ملا تھا۔ لیکن یہ سرکاری تعلیمی ادارے صرف لڑکوں کے لئے تھے۔ لڑکیوں کی تعلیم پر سرکار کی نظرِ کرم ہونے میں ابھی کچھ دیر باقی تھی۔ دوسری طرف ڈائمنڈ جوبلی گرلز سکولز خواندہ ماوں کی ایک تازہ کھیپ تیار کرنے میں مصروف عمل تھے۔

دوبارہ کہانی کی طرف چلتے ہیں۔ کراچی کی دوخواتین میرے گاوں میں میر کے محل کے عقب میں واقع گارے اور پتھر سے بنے، مگر اس دور کے مطابق بہت خوبصورت اور صاف و شفاف، ہیلتھ سینٹر کی عمارت میں خدمات سرانجام دے رہی تھیں۔ یہ ان دنوں کی بھی بات ہے جب ہمارے زیادہ تر خاندان ٹوائلٹ نامی جدید ایجاد سے ناواقف تھے۔

میرے گاوں میں ڈائمنڈ جوبلی سکول صرف لڑکیوں کے لئے تھی۔ لڑکے گورنمنٹ بوائز ہائی سکول میں پڑھتے تھے۔ دسویں جماعت تک میری تعلیم بھی اسی گورنمنٹ ہائی سکول میں ہوئی۔ ہماری ہم عمر کچھ لڑکیاں ششم کے بعد ڈائمنڈ جوبلی سکولوں سے نکل کر کریم آباد میں موجود آغاخان اکیڈمی میں تعلیم حاصل کر رہی تھیں۔ ان سے پہلے بھی بہت ساری لڑکیاں کریم آباد اکیڈمی سے فارغ التحصیل ہوچکی تھیں۔ اُن میں سے اب بہت سارے اب نہ صرف اعلی تعلیمیافتہ ہیں بلکہ عالمی سطح کے بڑے بڑے اداروں کے سربراہان کے طور پر بھی کام کر رہی ہیں۔

میں دسویں میں تھا جب خبر ملی کہ گلگت شہر میں آغاخان ہائیرسیکنڈری سکول کے نام سے لڑکوں کے لئے کوئی بہت بڑا ادارہ قائم ہو رہا ہے۔خبر یہ بھی تھی کہ اس ادارے میں داخلہ صرف ان کو ملے گا جو مقابلاتی امتحان پاس کرنے کے بعد انٹرویو میں بھی سرخرو ہونگے۔ تایااور والد صاحب کی ہدایت اور حوصلہ افزائی پر ٹیسٹ میں شریک ہوا۔ ٹیسٹ بالائی گوجال کے گاوں سرتیز میں منعقد ہوا تھا۔ کچھ ہفتے بعد معلوم ہوا کہ پپو پاس ہوگیاہے۔ پھر پینل انٹرویو کے لئے علی آباد ہنزہ بلایا گیا۔ اس دشوار مرحلے میں بھی بھی کامیابی ملی، حالانکہ انٹرویو کا بڑا حصہ انگریزی میں تھا۔

زبان یارِ من ترکی ومن ترکی نمیدانم!

چند ماہ بعد ہی کریم کلر شرٹ اور گرین شرٹس میں ملبوس، اس پر ایک ٹائی سجائے، ہم ہنیسارا پر معلق کونوداس کے دو لرزتے اور چیختے چلاتے پلوں کے ذریعے کشروٹ آنے جانے لگے۔ یہ بھی ہماری زندگی کا ایک دلچسپ واقعہ ہے کہ اس سے پہلے ہم نے (یعنی میں نے) کبھی بھی ٹائی نہیں پہنی تھی۔ دس سالوں تک کالی شلوار قمیض ہمارے سرکاری سکول کی وردی تھی۔

دسویں تقریباً پاس (یاپھر فیل، کیونکہ نئے سکول میں داخلے کے باعث فیڈرل بورڈ کا امتحان نہیں دیا تھا) کرنے کے بعد دوبارہ پریپ نائن (آٹھویں اور نویں کے درمیان معلق جماعت) میں آنا پڑا۔ پریپ نائنتھ ہم کند ذہنوں، بالخصوص ہم پسماندہ سرکاری سکولوں سے تعلق رکھنے والوں کے لئے، تیاری کا سال تھا کیونکہ آگے مقابلہ سخت تھا، اور ہماری تیاری نہ تھی۔ ہمیں صرف انگریزی ہی نہیں سیکھنی تھی، بلکہ اپنی ٹوٹی پھوٹی اردو کو بہتر کرنا تھا،بلکہ یوں سمجھ لیجئے کہ سائنس اور ریاضی کی بنیادی تعلیم بھی دوبارہ حاصل کرنی تھی۔

اس دوران رہائش عظیم الشان درسگاہ شاہ کریم ہوسٹل میں تھی۔ کیا شاندار وقت گزرا۔ کھیل۔ دال۔ سونا۔ دُعا وبندگی۔ بزم ادب۔ سکاوٹنگ، سیر و تفریح۔ حرام خوری۔

اگر یہ کہوں تو شائد مبالغہ نہ ہو کہ ہاسٹل کی لائبریری میں موجود تقریباً ساری کتابیں کم از کم اک بار ضرور پڑھی۔ میں کھلے دل اوربہت عاجزی کے ساتھ اعتراف کرتا ہوں کہ اگر مجھ خردماغ و خر مزاج کو بشریت کے ڈگر پر کسی چیز نے گامزن کیا تو وہ آغا خان ہائیر سیکنڈری سکول گلگت کی تعلیم اورشاہ کریم ہاسٹل کی تربیت تھی۔

ڈسکاونٹ اور سکالرشپس کے بل بوتے پر پڑھتے اور بڑھتے گئے۔ ہنستے، گاتے، روتے، لڑتے، دن ہفتوں میں، ہفتے مہینوں میں اور مہینے سالوں میں بدلتے چلے گئے۔ اور یہ سب اتنی تیزی سے ہوا کہ پلک جھپکتے میں پانچ سال گزر چکے تھے، اوراب اعلی تعلیم کے لئے اندرون ملک جانے کا جبر سہنا تھا۔ ادھر اُدھر ہاتھ پاوں مارنے کے بعد کراچی میں واقع ایک نجی یونیورسٹی میں داخلہ تو جیسے تیسے لے لیا، مگر مال ندارد۔

آغا خان ایجوکیشن سروسز کے سکالر شپ (جس کا نصف حصہ بطور قرض ملتا ہے) کے لئے اپلائی کیا۔ انٹرویو کے دو ادوار سے گزر کر سرخرو ہوا اور ایک بار پھر اعتماد کے ساتھ تعلیمی سلسلہ شروع ہوگیا۔ یہ الگ بات کہ بیچ میں ایک سمسٹر میں تباہ کن پرفارمنس کے باعث سکالر شپ معطل ہوگیا۔ پٹیل پاڑہ کے تنگ و تاریک مکان میں خاک پڑھائی ہوتی، خصوصاً ایک ایسے دانشگاہ میں جس میں اُن دنوں پاس ہونے کے لئے کم از کم ستر فیصد لانا ہوتا تھا؟

جھٹکا لگا تو دوبارہ سنبھلنا پڑا۔ دوبارہ کارکردگی دکھائی تو سکالرشپ بحال ہوگیا۔ جان میں جان آگئی۔ گھر والوں سے یہ سارا قضیہ چھپائے بیٹھا تھا۔ چار سالہ ڈگری پروگرام کے دوران میں گھر نہیں گیا۔ایک دفعہ گرمیوں کی چھٹیاں آغا خان یونیورسٹی میں بطور والٹئیر کام کیا، یا پھر یوں سمجھ لیجئے کہ والنٹئیر ہونے کے ناطے کم قیمت پر اے کے یو کیفیٹیریا میں مسلسل پیٹ پوجا کرتا رہا۔ پھر ڈاکٹر شمع ڈوسا کی مہربانی سے آغا خان یونیورسٹی کے سوشل سائنسز ڈپارٹمنٹ میں ایک تحقیق میں ان کی ادنی سی اعانت کا موقع ملا۔

ڈگری مکمل ہونے کے بعد آغا خان ایجوکیشن سروسز پاکستان کی سکالرشپ ڈارٹمنٹ کی رہنمائی میسر رہی اور پہلی فُل ٹائم نوکری بھی شروع کی، کراچی میں ہی۔ بعد ازین اسلام آباد منتقل ہوا۔ اور بھرتی کے کافی لمبے عمل سے گزرنے کے بعد فوکس ہیو مینیٹیرین اسسٹنس (جسے آج کل آغا خان ایجنسیٹی فار ہیبیٹاٹ کہا جاتا ہے) پاکستان نامی ادارے میں نوکری شروع کردی۔ تین سالوں کے بعد بوجوہ ذہنی انتشار کا شکار ہوا، اور پھر اس ادارے سے ہمارا دیس نکالا ہونے سے پہلے ہم خود ہی نکل گئے۔ اس کے بعد بھی ان اداروں سے بطور رضاکار بندھا رہا، جس سے میں نے تو شائد اداروں کو کچھ نہ دیا ہو، انہوں نے مجھے بہت کچھ دیا۔ ہاں، لیکن اے کے ای ایس کو پچاس فیصد قرض کی رقم ضرور اد کر دی، چند سالوں کے بعد ہی اور اس پر مجھے رتی بھر افسوس نہ ہوا، کیونکہ مجھے یقین تھا کہ یہ رقم میرے جیسے کسی اور کے کام آئے گی۔

بات طویل ہوگئی۔

اوپر لکھی گئی کہانی میری ہے لیکن اس کہانی میں مرکزی مثبت کردار کوئی دوسرا ہے۔ یہ وہ شخصیت ہے جس سے میں کبھی نہیں ملا۔ کبھی گفتگو کی سعادت نصیب نہیں ہوئی۔ جسے میں نے گزشتہ چار دہائیوں کے دوران دو بار شائد بیس فٹ کے فاصلے سے دیکھا، لیکن جس نے میری زندگی کو بدلا اور سہارا دیا۔ وہ شخصیت جس نے نہ صرف مجھے خواب دیکھنے کی ہمت دی اور ترکیب بتائی، بلکہ خواب کو سچ کرنے کے لئے ایک مضبوط و مربوط نظام بھی فراہم کیا۔

وہ کردار، جس کے گن دنیا میں بہت سارے گزشتہ دو ہفتوں سے گارہے ہیں، وہ کردار جس کے دادا نے تقریباً آٹھ دہائی قبل میرے علاقے میں سکول قائم کیا، جس کے اداروں نے ہاسپیٹلز، ہیلتھ سینٹرز، زچہ و بچہ مراکز بنائے، جنہوں نے دیہاتیوں کو منظم ہو کر اپنی معیشت کو بہتر کرنے کی تدبیر بتائی، جس نے نکاسی آب سے لے کر بنجر زمینوں کو سیراب کرنے کے اسباب مہیا کئے۔

عقیدت اور عقیدے کو ایک طرف رکھیں اور تصور کیجئے کہ ۱۹۸۲ تک ہمارے علاقوں میں کوئی ایک بھی مقامی نرس نہیں تھی۔ اسی لئے کراچی کی اسماعیلی برادری سے تعلق رکھنیوالی دو نرسز ہمارے گاوں، اور نہ جانے کتنے دیگر دیہات، میں خدمات سرانجام دے رہی تھیں۔ انہیں بھی ان کے امام نے ہی نرسنگ کی تعلیم حاصل کرنے اور انسانی خدمت کی ہدایت دی تھی۔ اسی لئے وہ چالیس سال قبل ہمارے گاوں بے سروسامانی کے عالم میں اپنی جان جوکھوں میں ڈالے، کیونکہ راستے بہت خطرناک تھے اور علاقے میں علاج معالجے کی سہولیات نہیں تھیں، کوڑیوں کے مول معاوضے کے عوض خدمات سرانجام دے رہی تھیں۔

گزشتہ چند دہائیوں کے دوران حالات بدل چکے ہیں۔ ابھی آج ہی کی خبر ہے کہ گوپس سے تعلق رکھنے والی ہماری ایک بہن نے برطانیہ سے نرسنگ کے شعبے میں پی ایچ ڈی مکمل کر لی ہے۔ ایم ایس سی این، بی ایس سی این نرسز اور ڈاکٹرز کی تو ایک اچھی خاصی بڑی کھیپ تیار ہو چکی ہے، اور اب اپنی قابلیت کی بنیاد پر پوری دنیا میں پیشہ وارانہ خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ دوسرے شعبوں میں بھی ایسی برق رفتار تبدیلی آئی ہے کہ اب ہر ہفتے کسی نہ کسی کی بڑی کامیابی کی خبر پڑھنے کو ملتی ہے۔

جن اداروں میں یہ شخصیت خود اور ان کی اولاد پڑھتے تھے، اب انہی اداروں میں ہمارے دور افتادہ اور پسماندہ دیہاتوں سے تعلق رکھنے والے درجنوں افراد، انہی کے بنائے ہوے نظام اور طرز فکر سے گزر کر، یا تو زیر تعلیم ہیں، یا پھر تعلیم حاصل کرکے کامیاب ہو کامران ہو چکے ہیں۔ جی ہاں، میں ہارورڈ، آکسفورڈ، براون یونیورسٹی، کیمبرج، میک گِل، ایم آئی ٹی، اور دیگر عالمی شہرت یافتہ تعلیمی اداروں کی بات کرہا ہوں۔

اس تحریر کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ سارے مسائل حل ہوگئے ہیں۔ بہت سارے مسائل ابھی حل طلب ہیں۔ بہت سارے نئے مسائل بھی جنم لے رہے ہیں۔ ماضی کے کچھ منصوے خاط خواہ کامیابی سے تاحال ہمکنار نہیں ہوے ہیں، لیکن ایک حوصلہ ضرور ہے کہ اب ان مسائل کو حل کرنیکے لئے کچھ اور نہ بھی ہو تو تعلیمیافہ اور تربیت یافتہ انسانی وسائل ضرور موجود ہیں۔ دھیرے دھیرے ہی سہی، لیکن یہ مسائل بھی حل ہوہی جائیں گے۔

اُس شخصیت کے بارے میں ہم اور آپ یہ کیسے کہ سکتے ہیں کہ اب وہ ہم میں نہیں رہے جنہوں نے زندگی کے ہر موڑ پر رہنمائی کی اور جس کی بنائے ہوے نظام کے بغیر آپ کی زندگی کی کہانی مکمل طور پر ادھوری ہوتی یا مکمل رائیگان رہتی؟

خلاصہ کلام، جو کچھ میں نے اوپر بیان کیا، اگر وہ شخصیت یہ سب نہ بھی کرتے تو پھر بھی ہم دل و جان سے ان کے معتقد اور مرید ہی رہتے۔ ہزاروں سالوں سے ہمارے آبا و اجداد نے خوفناک غربت اور پسماندگی کے باوجود، ان اماموں میں سے کسی کو کبھی زندگی میں دیکھے بغیر بھی ان کے خانوادے سے اپنا رشتہ استوار رکھا تھا۔ ہم بھی رکھتے۔ 

بلکہ شائد زیادہ جذباتی ہوتے اس رشتے کے حوالے سے۔



Friday, October 06, 2023

گوجال (ہنزہ) کی وخی شاعری – ایک مختصر جائزہ

اس مضمون کا مقصد گوجال کی وخی شاعری پر کچھ گزارشات پیش کرنی ہے۔ مگر اس سے قبل علاقے اور زبان کامختصر تعارف پیش خدمت ہے۔ 
وادی گوجال ضلع ہنزہ کا بالائی علاقہ ہے۔ ماضی میں مغربی مصنفین نے اس علاقے کو گوجال خورد اور ہمسارے میں واقع  واخان کو گوجالِ بزرگ کے نام سے بھی پُکارا ہے۔ بروشسکی بولنے والے احباب اس علاقے کو ہیر بر کے نام سے بھی پکارتے ہیں۔ بعض محققین کا ماننا ہے کہ لفظ گوجال دراصل ترک زبان کے لفظ "گوزیل" کی بگڑی ہوئی شکل ہے۔ گوزیل /گزیل ترکی  زبان میں خوبصورت کو کہتے ہیں۔ غالباً اطراف میں آباد ترک زبان بولنے والوں نے علاقے کو یہ نام دیا ہو، جو امتدادِ زمانہ کے ہاتھوں بگڑ کر گوجال ہوگیا ہے۔ 
وادی گوجال گلگت بلتستان  اور چترال کے ان چند علاقوں میں شامل ہے جہاں وخی زبان بولنے والے بڑی تعداد میں صدیوں سے آباد ہیں۔ گوجال کے علاوہ وخی گویان بالائی اشکومن اور بروغل (یارخون ویلی، چترال) میں بھی پھل اور پھول رہے ہیں۔ وخی کے علاوہ بروشسکی اور ڈوماکی بولنے والے کی بھی ایک خاصی  بڑی تعداد گوجال میں آباد ہے۔ 
وخی ہند یورپی زبانوں کی ایرانی شاخ میں شامل پامیری خانوادے کی ایک منفرد  زبان ہے۔۔ اس لسانی خانوادے میں وخی کے علاوہ  شغنی، سریقولی، اشکاشمی اور دیگر بولیاں اور زبانیں بھی شامل ہیں۔ تاہم، شُغنی اور وخی یا پھر سریقولی اور وخی بولنے والوں کے درمیان رابطے کی زبان عموماً فارسی ہوتی ہے۔ کیونکہ نہ ان کی زبان ہمیں سمجھ آتی ہے، نہ ہماری ان کو! 
وخی زبان میں شاعری کی روایت 
وخی  زبان میں شاعری کی قدیم روایت موجود ہے۔  تحریری شکل میں نہ ہونے کے باعث یہ وثوق سے نہیں کہا جاسکتا ہے کہ شاعری کی تاریخ کتنی طویل یا قدیم ہے۔ تاہم جو بچا کچھا کلام لوگوں کو زبانی یادرہا ہے ان پر مشتمل ایک کتابچہ چند سال قبل شائع ہواتھا۔ اس کتابچے  کو گلمت میں واقع بُلبُلک ہیریٹج سینٹر نامی ادارے نے شائع کیا تھا اور اس کا نام "پیوند" رکھا گیا تھا۔ 
"پیوند"  میں موجود  مختصر نظموں، گیتوں اور قطعات  کو اگر نمونے کے طور پر لیا جائے تومعلوم ہوتا ہے کہ پرانے زمانے کے وخی گویان دیگر لسانی  و ثقافتی گروہوں کی طرح قدرتی مناظر، حُسن اور عشق،  ہجر اور قلبی وارداتوں کے علاوہ شکاربازی، بہادری، جنگ  اور ہجر و ہجرت وغیرہ کے بارے میں اشعار اور نظمیں لکھتے تھے۔ ان کی شاعری کو اگر جدید شعری روایات کی کسوٹی پر پرکھا جائے تو زیادتی ہوگی، کیونکہ ان دنوں روایتی درس و تدریس کا کوئی سلسلسہ نہ تھا۔ مظاہر سے متاثر بہت سارے افراد بعض اوقات نظمی انداز میں نثر کہتے تھے، جن میں واردات ہائے قلبی کا تذکرہ ہوتا تھا۔  تاہم، اچھی شاعری اسی کو سمجھی جاتی تھی جس میں ربط اور جاذبیت دونوں موجود ہو۔ 
مطبوعہ و غیر مطبوعہ کلام کے کچھ نمونے تاریخی اعتبار سے بھی اہم ہیں کیونکہ ان  میں پرانے زمانے کے اکابرین  اور بااثر شخصیات کے نام بھی ہیں اور ان سے منسوب بہادری کے قصے بھی۔ کلام میں موجود ان اشخاص کے بارے میں دیگر حکایات اور قصے و کہانیاں بھی سینہ بہ سینہ منتقل ہوتی آئی ہیں۔ 
ایک اور بات یہ واضح ہوتی ہے کہ پرانے زمانوں میں زیادہ تر شاعری فی البدیہہ ہوتی تھی۔ قلم و قرطاس سے محروم افراد اپنی شاعری کو گاتے یا پڑھتے ہوے تخلیق بھی کرتے تھے، بدل بھی دیتے تھے اور بڑھا بھی دیتے تھے۔ 
رقص اور شاعری و گلوکاری کا چولی دامن کا ساتھ ہوتا تھا۔ دف اور تالیوں کے تال پر رقص کرنے والے گلو کار/شاعر "یورچ" میں جھومتے ہوے گاتے تھے اور مجمعے میں موجود افراد کورَس کی شکل میں ان شعرا اور گلوکاروں کے ساتھ مل کر گاتے اور ناچتے تھے۔ 
شعر گوئی کی  یہ خوبصورت اور پرجوش روایت اب گوجال میں بہت حد تک متروک ہوچکی ہے، لیکن اشکومن اور بروغل کے علاوہ وخان (تاجکستان و افغانستان) میں اب بھی اسی انداز میں شعر گوئی ہوتی تھی۔ 
شاعری کی ایک اور صنف اموات یا دیگر حادثات کے مواقعوں پر فی البدیہہ وجود میں آتی تھی۔ اسے وخی زبان میں "لُس" اور غالباً بروشسکی میں "لولو"  کہا جاتا ہے۔ لُس عموماً عورتیں روتے ہوے پڑھتی تھیں اور ان میں حزن و ملال سُننے کو ملتا تھا۔ گزرے ہوے کی تعریف و توصیف کی جاتی تھی اور اشک بہائے جاتے تھے۔ بدقسمتی سے جدت پسندی کے دباو تلے  لُس پڑھنے کی روایت بھی گوجال میں دم توڑ رہی  ہے۔  سماجی جبر کے تحت شاعری کی ایک خالص صنف کو ختم کرنا ثقافت اور  زبان کے ساتھ زیادتی ہے۔ 
خالص حجم  اور بہت حد تک معیار کے لحاظ سے دیکھا جائے تو وخی شاعری کی دنیا پر بلاشبہ رومانوی صنف کا غلبہ ہے، لیکن مذہبی کلام بھی بڑے پیمانے پر لکھا گیا ہے۔ مذہبی کلام کا ایک بڑا حصہ مدح گوئی پر مبنی ہے جس میں خدا، رسول اور اماموں کی تعریفیں لکھی جاتی ہیں۔ مذہبی کلام کی دوسری قسم خالص توصیفانہ نہیں بلکہ صوفیانہ نوعیت کی ہے جس میں روح الہی کے ساتھ ربط بڑھانے اور اسے سمجھنے کی سعی کی جاتی ہے۔ 
ایک خاصا بڑا نمونہ کلام سماجی اصلاح کے پیغامات پر مبنی شاعری کی بھی ہے۔ اس میں مزاحمتی کلام بھی شامل ہے، جس کا حجم آئے روز بڑھتا  جارہا ہے۔ سماجی، ریاستی اور مذہبی جبر کے خلاف مزاحمت کی شاعری سماجی ناہمواریوں، آئینی و سیاسی محرومیوں اور دگرگوں معاشی حالات کے خلاف اظہارِ بغاوت ہے، اور موجودہ دور میں مزاحمتی شاعری کو بتدریج پذیرائی بھی مل رہی ہے، جو انتہائی خوش آئند ہے۔ وطن اور علاقے کی محبت اور شان و شوکت میں قصیدے لکھنے کی روایت بھی موجود ہے۔ 
مزاحیہ شاعری بھی بڑے پیمانے پر لکھی جاتی ہے، جس میں سماجی روایات و عادات کی مضحکہ خیزیوں، انسانی رشتوں کی پیچیدگیوں اور دیگر معاملات کو طنز اور مزاح کے لطیف پیرائے میں لکھا جاتا ہے۔ تاہم، اس کلام میں بھی اصلاح کا پہلو ہوتا ہے۔ 
وخی زبان میں مشاعرے کی روایت تاریخی اعتبار سے نئی ہے، مگر گزشتہ چند عشروں سے مشاعرے تواتر سے منعقد ہوتے ہیں۔ ان مشاعروں کے دوران عموماً نئے شعرا کی تخلیقات اور پرانے شعرا کے نئے  کلام سُننے کو ملتے ہیں۔  روایتی مشاعروں کے برعکس، وخی مشاعروں میں شعرگوئی کے ساتھ ساتھ موسیقی اور گلوکاری کو بھی شامل کیا جاتا ہے۔
شاعری کے معیار پر گفتگو ہو سکتی ہے مگر یہ حیقیقت مُسلم ہے کہ شاعروں نے وخی شناخت کو برقرار رکھنے اور اسے پروان چڑھانے میں بڑا اہم کردار ادا کیا ہے۔   تقریباً ہر جدید ملک میں عددی اعتبار سے اقلیت میں ہونے کے باعث زبان اور شناخت کا شیرازہ بکھرنا بہت آسان ہو جاتا ہے۔ مگر شاعروں، گلوکاروں اور قصہ گویان  نے وخی بولنے والوں کو قدیم تاریخ اور تمدن سے جوڑے رکھا ہے، جو ایک مختصر گروہ کی بقا کے لئے انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ اُمید ہے کہ یہ روایتیں اسی طرح سے جاری رہیں گی اور متروک  یا پھر فراموش کردہ اصناف اور شعری روایتوں کی احیا کے لئے بھی کوشش کی جائے گی۔ 
کچھ تذکرہ شعری شخصیات کا
قدیم زمانے کے شعرا جن کے نام لوگوں کو  یاد رہے ہیں ان میں شیرین شاہ، غلامچی، مُلا شِکر، بیگ دولت، علی شفا، قلندر بیگ، خیال بیگ، گلبدن، قبلائی بُکی، قربان خان، اقبال حسین،  دادِ خُدا، پیر علی، ارباب محمد علی،  اور  یوسف خان   جیسے نامور شعرا موجود ہیں۔ ان کے علاوہ  دیگر شعرا، جن سے منسوب کلام "پیوند" نامی کتابچے میں موجود ہیں، میں زرمست، دائم، خُشول بیگ، محمد ضیا، طاق محمدوغیرہ شامل ہیں۔ اس گروہ میں شامل  تمام شعرا آنجہانی ہیں۔ تاہم، بہت ساروں کے کلام کے نمونے موجود ہیں اور ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا کی مدد سے انہیں محفوظ بنانے اور دوسروں تک پہنچانے کے لئے کوششیں کسی نہ کسی شکل میں جاری ہیں۔ 
چپورسن سے تعلق رکھنے والے پیر علی کی شاعری، جذبات، کیفیات اور معیار کے حوالے سے  اپنی مثال آپ ہے۔ خوشقسمتی سے ان کا کلام کا ایک حسہ انہی کی آوازمیں موجود ہے۔ اسی طرح، گلمت سے تعلق رکھنے والے نیکبخت شاہ کی آواز بھی  ان کی وفات سے قبل ریکارڈ کی گئی ہے۔ یہ آوازیں ثقافتی اثاثے ہیں،جن کی اہمیت سے شائد آج ہم کلی طور پر واقف نہیں ہیں۔ 
دیگر بزرگ شعرا،جنہیں میرے ہم عمر افراد نے خود دیکھا یا سُنا ہے،  میں محترم   عصمت اللہ مشفق، محمد عارف، خلیفہ نذر شاہ،، سعادت شاہ (مرحوم)،  احسان علی احسان (چپورسن)، امان اللہ ناچیر، علی داد، دولت قاضی، وغیرہ شامل ہیں۔  محترم عصمت اللہ مشفق نے وخی  کے علاوہ  فارسی میں بھی اچھا خاصا کلام لکھا ہے۔ امید ہے کہ ان کی شاعری مطبوعہ شکل میں جلد منظر عام پر آئے گی۔ 
جدید دور کے شعرا میں نذیر احمد بلبل، علی قربان، سیف الدین سیف، عالم جان دریا، علی احمد شانی، افضل کریم، احمد ریاض احمد، کریم خان ساکا، حمد رہبر، غلام مصطفی، احمد جامی سخی، فضل امین بیگ، محمد امین، جمعہ خان عاصی، امان اللہ ماد،   شریف خان، حبیب الرحمن سلیمانی، سلیم خان، شاہد اختر، اخون بائے ،حاجی بلبل، علی رحمان وغیرہ   شامل ہیں، جن کے کلام کو عوامی مقبولیت حاصل ہے۔یہ حضرات  شعرا کے اس نسبتاً جدید گروہ سے تعلق رکھتے ہیں جنہیں بہت حد تک اعلی تعلیم (بشمول  کالج و یونیورسٹی) تک رسائی ملی ہے۔
 شعرا کے اس گروہ میں شامل علی قربان مغنی صاحب  کی زیادہ تر شاعری مزاحمتی نوعیت کی ہے۔ تاہم، انہوں نے کلامِ پیر ناصر خسرو  بلخی کے ایک حصے کا وخی زبان میں منظوم ترجمہ  بھی کیا ہے، اور دل کو چھو لینے والی  رومانوی شاعری بھی توا تر سے لکھتے ہیں۔ ان کا خاصہ یہ بھی ہے کہ اپنے تازہ کلام کو خود پڑھ کر ریکارڈ کرتے ہیں اور سوشل میڈیا (بالخصوص یوٹیوب) پر نشر کردیتے ہیں۔ 
لسانیات اور انسانی علوم کے ماہر فضل امین بیگ  بھی اپنی شاعری کو ریکارڈ کر کرے سوشل میڈیا اور اپنے ویب سائٹ پر شائع کر دیتے ہیں۔ سیف الدین سیف اور افضل کریم شمشالی نے بھی بہت عمدہ کلام للھا ہے اور ان کا تخلیقی سفر دھوم دھام سے جاری ہے 
یہ کہنے میں مبالغہ نہ ہوگا کہ اس دور کے وخی شعرا میں سب سے زیادہ شہرت نذیر احمد بلبل کے حصے میں آئی ہے، جنہوں نے اب تک نہ صرف  بہت  اعلی پائے کی رومانی اور عرفانی ادب تخلیق کی ہے، بلکہ ان کے مزاحیہ وخی کلام بھی بہت مشہور ہیں۔ ان کی کتاب "بیاضِ بلبل" کے نام سے شائع ہوچکی ہے،جو پاکستان میں شائع ہونے والی وخی شاعری کی پہلی کتاب سمجھی جاتی ہے۔ 
شعرا کے تیسرے گروہ میں فیض رحیم پوش، دیدار کریم، سناور خان صابر،  مرزا حسین،  علی رحمان، اخون بائے، میر باز میر، رضا بیگ رضا،  شفقت کریم، آصف ماتھور، سید اکبر، عبداللہ بائے، روزی بائے، رحمت کریم، عامر خان (بائے شاہ گون)،غلام قادر پروانہ،  محمد رحیم ،محمد ضیا،  غلام باقر، وغیرہ   شامل ہیں۔  ان کے علاوہ مسعود خان، آزاد زر آبادی ، ابوذرعلی  اور دیگر نوجوان شاعر بہت کم وقت میں اپنے فن کی دھاک بٹھا چکے ہیں۔ 
نئے لکھنے والے نوجوانوں میں علی احمد جان، مسعود کریم دُر، سید شمشالی اور حبیب، محبت شاہ جیسے اچھوتے انداز میں خیالات اور کیفیات اشعار اور نظموں کی شکل میں بیان کرنے والے موجود ہیں۔ ان کے علاوہ بھی متعدد شعرا ہیں۔ 
ایک خوش آئند حقیقت یہ بھی ہے کہ  وخی زبان میں صرف مردوں نیشاعری نہیں کی ہے۔ متعدد شاعرات  نے بھی اپنے خیالات اور احساسات کے اظہار کے لئے شعر گوئی کا انتخاب کیا ہے۔خواتین کی شعر گوئی کی روایت بہت قدیم ہے۔ آج تک  بعض خواتین کے کلام کو ان کے اولاد کی نسبت سے یاد رکھا گیاہے، جیسے کہ یکشمال کی والدہ ، علاو الدین کی دادی، لوق کی والدہ  اور نذر بوئے کی والدہ سے منسوب گیت  "پیوند" نامی کتابچے میں موجود ہیں۔ ان کے علاوہ بختی جمال، عزیز بیگم، روشن زوجہ فیروز ، بی بی جمال وغیرہ کے کلام کے نمونے بھی محفوظ ہیں۔ موجودہ  دور میں لیلی غازی  اور سمیرہ پوش سمیت متعدد خواتین اور نوجوان لڑکیاں وخی میں شعر لکھتی ہیں اور گاہے بگاہے ان کے کلام منظر عام پر آتے بھی ہیں۔  شاعرات  کی مزید حوصلہ افزائی کرنے کی ضرورت ہے۔  
گزشتہ چند سالوں کے دوران سوشل میڈیا کے طفیل چین، تاجکستان، افغانستان اور پاکستان میں منقسم وخی شعرا  بتدریج ایک دوسرے کے قریب آرہے ہیں اور ایک دوسرے سے سیکھ رہے ہیں۔ بہت سارے فراموش کردہ الفاظ و تراکیب کا تبادلہ ہورہا  ہے اور زبان کا دامن وسیع ہوتا نظر آرہاہے۔ اشکومن، بروغل اور منقسم وخان میں بھی شعر گوئی کی قوی روایات موجود ہیں۔ امید ہے کہ مستقبل میں ان کے بارے بھی مزید پڑھنے اور جاننے کا موقع ملے گا۔ 
خلاصہ کلام یہ ہے کہ گوجال  (بالائی ہنزہ) میں وخی شاعری کی روایت نہ صرف موجود ہے بلکہ پھل اور پھول رہی ہے۔ یہ ہماری زبان کی بقا کے لئے انتہائی اہم ہے۔ 
سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کی عدم دلچسپی یا نااہلی سمجھ لیجئے یا پھر ہماری اپنی کوتاہی، ہم وخی زبان کی شاعری  کی بڑے پیمانے پر طباعت یقینی بنانے میں فی الحال ناکام ہیں۔  وسائل دستیاب ہوں اور جذبہ تعمیر اُبھرے تو ایک ہی سال میں معیاری شاعری کے کئی دیوان چھاپے جاسکتے ہیں۔ تب تک ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا کا سہارا لیا جاسکتا ہے۔
x

Tuesday, April 25, 2023

ہوپر نگر - نظروں سے اوجھل ایک حسین و مہربان خطہ

شرمندگی کے ساتھ اعتراف کرنا پڑ رہا ہے کہ نومبر 2022 سے قبل میں نے کبھی بھی گنش پُل کے قریب سے نکلنے والی اُیوم نگر (بڑا نگر) کی طرف جانے والی سڑک کا رُخ نہیں کیا تھا۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ 1999 سے آج تک خانہ بدوشوں والی زندگی گزار رہا ہوں۔ بفضلِ خدا چار براعظموں میں واقع نو ممالک کے کچھ شہروں کو دیکھنے کا موقع ملا ہے لیکن اپنی دھرتی کی ایک خوبصورت وادی تک جانے کا موقع نہیں ملا تھا۔

گزشتہ سال چالیس دنوں کے لئے وطن وارد ہوا تو ہوپر نگر تک جانے کا موقع نکالا۔ رشتے میں چچا، مگر بچپن کے دوست، کریم اسلم کی چمچماتی کار میں سوار ہو کر گلمت سے علی آباد وارد ہوے۔ پیٹرول بھرنے کے بعد واپس مُڑے اورالتت سے اترنے والے جھرنے کی معطر اور نمدار ہوا سے کچھ دیر کے لئے لطف اندوز ہونے کے بعد گنش پُل سے گزر کر ہوپر کی جانب چل پڑے۔

دریا کنارے چلتے چلتے ایک تنگ گھاٹی میں داخل ہوگئے۔ دائیں ہاتھ پر دریا کے نزدیک رنگ برنگ درخت یوں ایستادہ تھے جیسے قدرت نے ایک شاہکار تخلیق کرتے وقت اپنا برش بے دھیانی میں پھیرا ہو۔ خزان کا موسم تھا۔ درختوں پر لگے پتے رنگ برنگے پھولوں کی شکل اختیار کر چکے تھے۔ اس منظر کا حواس noپر طاری ہونا اچھنبے کی بات نہیں ہے۔ ہم بھی مسحور ہوگئے۔

تنگ گھاٹی پر دریائے نگر کا راج ہے، سوائے بائیں ہاتھ پر سڑک کے لئے بچی چھوٹی زمین کے۔

آگے بڑھتے بڑھتے ہم ایک پُل پر پہنچے۔ بائیں ہاتھ پر پہاڑ میں سے سفید رنگ کے پتھر نکالنے کا سلسلہ جاری تھا۔

بڑی مشینیں۔ بڑے پتھر۔ خوبصورت منظر۔

پُل پر سے مڑنے کے بعد سامنے چڑھائی ہے اور بائیں ہاتھ پر کھائی۔ دائیں ہاتھ پر پہاڑیوں کے اوپر نگر کے محنت کشوں کے لگائے درخت اپنی رعنائیاں بکھیر رہے تھے۔

راستے میں جابجا دلکش اور گھنے باغات ہیں۔ سڑک کنارے اخروٹ کے قوی الحبث درخت نہ جانے کتنی صدیوں سے کھڑی ہیں۔ جا بجا کلکاریاں مارتے اور دوڑتے بھاگتے بچے ہیں۔ کھلی اور صاف فضائیں ہیں۔ کچے اور پکے گھر ہیں۔ مساجد اور امام بارگاہیں اور پیاروں کی آخری آرامگاہیں ہیں۔ ہر طرف زندگی کے آثار ہیں۔

سڑک آبادی کے بیچ میں سے گزرتی ہوے مسلسل اوپر کی طرف جاتی ہے۔راستے میں میدانی علاقے بھی بہت ہیں۔ ایک مقام پر ایک چھوٹا سا بازار بھی ہے، جہاں ضرورت کی چیزیں مل جاتی ہیں۔ سڑک ذرا تنگ ہے۔ اور آبادی والے علاقوں میں بچے اور بزرگ سڑک سے گزرتے ہیں اسلئے ڈرائیونگ بہت احتیاط سے کرنے کی گزارش ہے۔

راستے سے ہی وہ علاقہ بھی نظر آتا ہے جہاں دو سال قبل سیلاب سے تباہی مچادی تھی۔ ہم چلتے رہے۔ ویڈیوز بناتے ہوے اور تصویریں اتارتے ہوے۔ راستے میں بہت سارے سیاح بھی نظر آئے جو سڑک کنارے لگے دلکش خزان رسیدہ درختوں کے سامنے تصویریں نکلوا رہے تھے۔ ٹک ٹاک کے لئے ویڈیوز بنا رہے تھے۔

ہوپر گلیشر کے نزدیک تک پہنچتے پہنچتے تقریباً ایک گھنٹہ لگ گیا۔ یہاں کافی سارے ہوٹلز، دکانیں اور مارکیٹیں تھیں۔ ہم نے کار ایک ہوٹل کے پارکنگ ایریا میں رکھا اور نعلین در بغلین ہانپتے کانپتے گلیشیر کا نظارہ کرنے کے لئے مختصر سی پہاڑی پر چڑھنے لگے۔ پہاڑی کے اوپر پہنچ کر وادی ہوپر اور گلیشیر کے بہت حسین نظارے دیکھنے کو ملے۔ وہاں بھی خوبصورت دکانیں موجود ہیں جن میں نوادرات، قیمتی پتھر اور علاقے کی ثقافتی علامتی اشیا موجود ہیں۔ ہنستے مسکراتے اور مہبربان چہروں والے دکاندار بہت محبت کے ساتھ پیش آئے۔

دور پہاڑی پر گلیشیر کے نزدیک ایک چھوٹی سی عمارت نظر آئی تو وہاں جانے کی ٹھانی۔ تھوڑی بہت چڑھائی کے بعد ایک بہت ہی زبردست ویو پوینٹ پر پہنچ کے ہوپر گلیشیر کے نظارے کئے۔ یہاں بھی اندرون ملک سے تعلق رکھنے والے سیاح موجود تھے۔

گلیشیر کی یخ بستہ ہواوں کو سینے میں سمونے، تصویریں نکالنے، ویڈیوز بنانے اور گلیشیر کے نظارے کرنے کے بعد واپسی کی راہ لے لی۔ بہت اچھا دن گزرا۔ ایک اور خواب پورا ہوا۔

اگلی دفعہ راکاپوشی بیس کیمپ، داریل، تانگیر اور فیری میڈوز دیکھنے کا اشتیاق ہے۔ اگر زندگی رہی!


Friday, January 27, 2023

کیرچ میں ایک رات – آخری قسط

دیو ہیکل پہاڑوں کے دامن میں خزاں رسیدہ گھاس اور درختوں پر چھائے گھُپ اندھیرے، اور پہاڑوں کی چوٹیوں سے دھیرے دھیرے اترتی چاند کی روشنی میں میں جو تاثیر ہے اس میں کیرچ کے اندر جلتے الاو کی حدت اور روشنی، لکڑی کے جلنے  اور برتنوں کے کھنکنے کی آوازیں، اور  فریاد صاحب کے وائلن کی جلترنگ شامل ہو  تو کُنڈا ہیل کی رات کا منظر کسی حد تک بیان ہوسکتا ہے۔  

کیرچ کے اندر چوہوں کی موجودگی کا سُن کر ہم سب چوکنے ہوگئے۔ پیٹ میں بھی چوہے دوڑ رہے تھے۔ لیکن کھانا پکنے میں بہت وقت لگ رہا تھا۔ 

استفسار پر معلوم ہوا کہ مُرغی کی بجائے خوش گائے (یاک) کا گوشت پکایا جارہا ہے۔ ایسی بلندی پر خوش گائے کا گوشت پکانے کی خواہش رکھنے والوں کو وطن کی ہواوں کا سلام  بہم پہنچاتے ہوے ہم بالآخر پیٹ پوجا کرنے میں کامیاب ہو ہی گئے، لیکن اس انداز میں کہ گوشت کو ربڑ کی طرح کھینچ کھینچ کر کھانا پڑا، اور ہاتھوں کے ساتھ ساتھ چہروں پر بھی چکنائی پھیل گئی۔  کُنڈا ہیل کی پریاں اگر یہ منظر دیکھ پاتی تو ضرور قے کرتے ہوے ہم سے دور بھاگ جاتیں۔ 

مگر، بھوک لگی ہوتو ایسی باتوں پر کون توجہ دیتا ہے؟ یہ تو فراغت اور عیاشی کی باتیں ہیں۔ 

کیرچ کے اندر بیٹھے ہوے یہ خیال آیا کہ ہمارے بزرگ یہاں کس طرح رہتے ہونگے؟ ان کے کپڑے کیسے ہونگے؟ ان کے اطعام کس قسم کے تھے؟ ان کے اذہان پر کن خیالات کا پہرا رہتا ہوگا؟

ہم  ڈبل انڈروئیر، بڑے بڑے کوٹ، م


وٹی جرابیں اور جوتے پہنے ہوے لوگوں کو ان کی حالات کا اندازہ لگانے میں دقت پیش آرہی تھی۔ لیکن ایک بات تو طے ہے کہ نہ ان کے پاس ہمارے جیسے کپڑے تھے، نہ جوتے، اور نہ ہی ہمیں میسر دیگر آلات و اسباب۔ ہم ایک رات کے لئے ان کی طرح رہنے کی اداکاری تو کرسکتے تھے، مگر ان کی طرح رہ نہیں سکتے تھے۔ 

سلیپنگ بیگزکے اندر بیٹھنے کے باوجود بھی ہم ٹھنڈک محسوس کر رہے تھے۔ درمیان میں جلتے الاو کی حدت صرف جسم کے سامنے والوں حصوں کو گرم رکھنے کیلئے کافی تھی۔ پیچھے سے گلیشیائی ہوائیں کیرچ کی ٹوٹی پھوٹی  چوبی دیواروں کے درمیان موجود خلاوں سے گزرنے کے بعد تیر کی طرح ہڈیاں میں اُتر رہی تھیں۔ 

ان حالات کا مقابلہ کرنے کیلئے خالص قدرتی مشروبات  (بشمول گرین ٹی) سے استفادہ کیا۔ اور کیا خوب کیا۔ 


چاند کی کرنیں پہاڑوں کی دیواروں سے دھیرے دھیرے نیچے اتر رہی تھیں۔ پوری وادی میں ایک ایسا سناٹا تھا کہ وحشت کا گمان ہوتا تھا۔

اس سکوتِ شب کے سحر کو توڑنے کے لئے علی سرور نے اپنی آواز کا جادو جگایا اور اس میں فریاد نے اپنے وائلن کی  آوازیں شامل کردیں۔ بس پھر  کیا تھا۔۔۔۔۔۔ 

طاوس و رباب اول۔۔۔۔ طاوس و رُباب آخر ۔۔۔۔۔۔کا فلسفہ شامل حال ہو تو بے خود اور بے حال ہونے کی راہ میں حائل رکاوٹیں جھٹ سے دور ہوجاتی ہیں۔

اس رات کا سحر تھا کہ جس نے بھی گایا، جو بھی گایا، روح تک اُتر گیا اور اس کی تاثیر آج بھی ہفتوں بعد  زندہ  ہے۔ 

دن بھر کی تھکن کے باوجود بھی نیند آنکھوں سے کوسوں دور رہی۔ چاندنی کیرچ کے چاروں اطراف سے چھن چھن کر اندر آنے لگی۔  

"جانے کب تک تیری تصویر نگاہوں میں رہی

ہوگئی رات تیرے عکس کو تکتے تکے 

میں نے پھر تیرے تصور کے کسی لمحے میں 

تیری تصویر پہ لب رکھ دئیے آہستہ سے " – پروین شاکر 

صبح ہائیکنگ پر وادی میں مزید اندر کی طرف جانے کا منصوبہ تھا۔ خواہش اور اُمید تھی کہ گلیشیر کے نزدیک پہنچ جائیں گے۔ چائے اور پٹوک (بروشسکی میں پی ٹی) کا روایتی ناشتہ کرنے کرنے کے بعد ہم نے زیادہ تر سامان کیرچ کے اندر رکھا اور خود ہائکنگ کے لئے روانہ ہوگئے۔ راستے میں جابجا خوبصورت مناظر سے لطف اندوز ہوے۔ تصویریں بنائیں اور چلتے رہے۔ ایک گلیشائی ندی، جس میں پانی بہت ہی کم تھا، پار کرنے کے بعد ہم دھیرے دھیرے ایک بار پھر ایک ڈھلوان پر چڑھنے لگے۔ 

ہماری شدید خواہش تھی کہ راستے میں ہمیں کوئی "جوندور" نظر آئے گا، یعنی کسی برفانی چیتے کا یا آئی بیکس  کا دیدار ہوگا۔ آثار بھی تھے۔ جا بجا ہمیں قدموں کے نشانات نظر آئے، لیکن پرندوں کے چند غولوں  کے علاوہ کسی ذی روح کا دیدار نصیب نہ ہوا۔ 

پہاڑی پر چڑھنا نسبتاً مشکل ثابت ہوا کیونکہ زمین برف سے اٹی ہوئی تھی۔ سورج کی تمازت سے برف پگھل جائے تو زمین  نرم اور گیلی ہوجاتی ہے جس پر قدم رکھنے سے پھسل کر گرنے کا خدشہ تھا۔ پھونک پھونک کر قدم رکھتے گئے۔ چڑھائی کے باعث پھیپھڑوں پر ایک بار پھر مصیبت آئی۔ سانسیں پھول گئیں، لیکن ہم نے رُکنے سے انکار کیا۔ 

پہاڑی کے اوپر ایک سنگِ میل سا نظر آرہا تھا۔ بعض دوستوں نے کہا کہ سنگِ میل نہیں بلکہ درخت ہے۔ ہمارا ارادہ تھا کہ اس سنگِ میل (وخی میں انہیں ثمن کہتے ہیں)  تک ضرور پہنچیں گے۔ 

اک اور دریا کا سامنا تھا منیرؔ مجھ کو

 میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا (منیر نیازی) 

اس ثمن تک پہنچنے کے بعد معلوم ہوا کہ گلیشر کے نزدیک پہنچنے کا خواب پورا نہیں ہوگا،کیونکہ آگے اچھا خاصا فاصلہ تھا۔ لیکن یہاں سے واپس جانے کا بھی من نہیں کر رہا تھا کیونکہ ابھی دن کے بارہ بھی نہیں بجے تھے، حالانکہ ہم نے کم از کم 4 گھنٹے کی ہائیکنگ کی تھی۔ تھوڑی دیر سستانے کے بعد تھکاوٹ کا اثر بھی کم ہوگیا تھا۔ اس لئے ہم نے مزید اوپر جانے کا فیصلہ کیا۔ فریاد صاحب نے مزید آگے جانے کی بجائے اس مقام پر بیٹھ کر نظارہ قدرت میں مصروف رہنے  کا ارادہ کیا۔

علی سرور، شاہد سلطان اور راقم برف پر گرتے پھسلتے گلیشیر کے ایک انتہائی زیریں حصے کے نزدیک پہنچ ہی گئے۔  چند تصویریں نکالنے کے بعد واپسی کا سفر شروع ہوا۔ ہمارا خیال تھا کہ واپسی آسان ہوگی۔ لیکن برف اور پھسلن کی وجہ سے گرتے پڑتے نیچے پہنچ گئے۔ 

شاہد سلطان نے تیزی سے آگے جانے اور ہم سست قدموں کی کیرچ آمد سے قبل لنچ تیار کرنے کا فیصلہ کیا اور جلد ہی چلتے چلتے ہماری نظروں کی حدود سے نکل گیا۔ علی سرور اور راقم بھی دھیرے دھیرے آگے بڑھتے گئے۔ لیکن فریاد صاحب پیچھے رہ گئے۔ انہیں پتھروں پر تحقیق کا شوق ہے، اس لئے ایک چھوٹی سی ہتھوڑی اور ایک عدسہ ہاتھ میں لئے چل رہا تھا، اور اپنیموبائل سے ولاگ بھی بنا رہا تھا۔ 

کیرچ تک پہنچنے کے آدھے گھنٹے بعد فریاد بھی نمودار ہوگئے۔ لنچ کھانے کیبعد ہم نے سامان سمیٹا۔ کیرچ پر ایک نظر ڈالی۔ بزرگوں کو یاد کیا۔ اور واپسی کی راہ لی۔ 

ویر خُن سے ہوتے ہوے ہم یرزریچ کی سمت جاتی ہوئی سڑک پر پہنچ گئے تو شام رات میں ڈھل چکی تھی۔ تھوڑی دیر بعد ذیشان کار سمیت پہنچ گیا۔ آدھ گھنٹے کے بعد فریاد صاحب بھی بخیر و عافیت بالآخر پہنچ گیا۔ 

اس سفر کے اختتام پر ٹانگیں تھکی ہوئی تھیں مگر روح کی تازگی لوٹ آئی تھی۔ دُعا ہے کہ یہ تازگی برقرار رہے۔ 

امید اور ارادہ ہے کہ اگلی دفعہ پاکستان واپسی ہوئی تو وادی شمشال میں واقع پامیر کی جھیلوں اور سبزہ زادوں تک جائیں گے۔

نوٹ: یہ سفرنامہ ضلع ہنزہ (گلگت بلتستان) کے بالائی علاقے وادی گوجال میں واقع ایک چراگاہ سے متعلق ہے

کیرچ میں ایک رات – تیسری قسط

ویر خُن سے روانگی کے بعد نسبتاً آسان راستہ ملا۔ گھنے، قدیم، درختوں کے درمیان سے گزرتے ہوے  ہم ارد گرد بکھرے ہزار رنگوں کے پتھروں کو دیکھ کر حیران ہو پریشان ہوتے رہے۔ کُنڈا ہیل کی وادی کی چوڑائی اتنی زیادہ نہیں ہے، لیکن لمبائی اچھی خاصی ہے۔ پورے راستے میں جا بجا  جنگلات اور درخت موجود تو ہیں مگر آثار بتارہے ہیں کہ پہلے کی نسبت بہت کم درخت رہ گئے ہیں۔ درختوں کی کمی کی مختلف وجوہا ت ہیں۔ پہلی اور سب سے بڑی وجہ تو قدرتی آفات ہیں۔ پوری وادی میں جابجا سیلابی ریلوں کی گزرگاہیں ہیں۔ زمینی تودے گرنے کے باعث نہ صرف بہت سارے جنگلات دب گئے ہیں بلکہ کُنڈا ہیل کو سیراب کرنے والی نہر بھی کٹ چکی ہے۔ سیلابی ریلے اپنے ساتھ بہت سارے چھوٹے بڑے پتھر لے کر آتے ہیں۔ ان میں بہت قیمتی پتھر بھی موجود ہوسکتے ہیں۔ لیکن زیادہ تر پتھر بس تباہی کا سامان بن جاتے ہیں۔ 

قدرتی آفات سے جو کچھ بچ گیا، اُسے انسانی آفات نے تباہ کردیا ہے۔ ماضی میں درختوں کی بے دریغ کٹائی ہوئی ہے اس علاقے میں۔ بتایا جاتا ہے کہ انگریز سامراج نے جب ہنزہ و نگر کو مقامی و علاقائی  غداروں کی کمک سے زیر کرلیا تو  شمالی سرحد کو محفوظ بنانے کے لئے وادی مسگر میں قلندرچی کے مقام پر ایک قلعہ تعمیر کیا۔ اس قلعے کی تعمیر کے لئے ساری لکڑی کُنڈا ہیل سے براستہ چپورسن لے جایا گیا۔ 

اس کُنڈا ہیل سے ہی درخت کاٹ کر لکڑی بہت سارے گھروں کی تعمیر میں خرچ کیا گیا۔ قدرتی وسائل سے فائدہ اُٹھانا مقامی افراد کا حق ہے لیکن وسائل کی دیرپا بقا کے لئے تدبیر کی بھی اشد ضرورت ہے۔ پورے گلگت بلتستان میں بجلی اور گیس کی سہولت میسر نہیں ہے، جس کے باعث بہت دہائیوں تک درخت کاٹ کر جلانے کے لئے بھی استعمال کیا گیا۔ آجکل پابندیاں عائد ہیں۔ امید ہے کہ اب انسانی آفتوں پر قابو پایا جائے گا۔

انہی موضوعات پرخامہ فرسائی کرتے ہوے فریاد، سرور، شائد اور میں دھیرے دھیرے آگے بڑھ رہے تھے۔ فریاد حسبِ معمول اپنی جیب سے عدسہ نکال کر پتھروں کو بغور دیکھ رہے تھے۔ اور وہ اپنی یوٹیوب چینل کے لئے غالباً ولاگز بھی بنارہے تھے۔  اس لئے ان کی رفتار ہمارے نسبت دھیمی تھی۔


 

ہم بھی تصویریں نکالتے ہوے آگے بڑھتے گئے۔ راستے میں پانی کا نام و نشان تک نہیں ہے۔ سوست سے منرل واٹر کی چار بوتلوں میں پانی لینا، ہر شخص کے لئے ایک بوتل، اچھا فیصلہ تھا۔ زیادہ بوتل  خریدنے کی صورت میں وزن کا بڑھنا لازمی امر تھا۔ 

بہر حال، دھیرے دھیرے چلتے ہوے ہم وادی میں آگے بڑھ رہے تھے۔ سیلابی ریلوں اور برفانی تودوں کے گرنے کے مقامات سے چلنا بہت مشکل ہوتا ہے کیونکہ چھوٹے بڑے پتھر ہر قدم پر موجود ہیں۔ پاوں کے تلوے  دُکھنے لگتے ہیں۔

سورج کی کرنیں بھی ہمارے ساتھ ساتھ چلتے چلتے پہاڑوں کی چوٹیوں کی جانب گامزن تھیں۔ ہمارا ہدف تھا اندھیرے سے پہلے کُنڈا ہیل میں واقع کیرچ تک پہنچنا۔ اندھیرا چھا جانے کی صورت میں سرور کے پاس موجود چھوٹے سے ٹارچ کا سہارا تھا۔ لیکن ہم اس سہارے پر تکیہ کر کے ٹانگیں تڑوانے کے موڈ میں نہیں تھے۔ اس لئے رفتار بڑھانے کی ناکام کوشش کرتے رہے۔ 

سورج کی روشنی کم ہورہی تھی، اور اسی رفتار سے سردی بھی بڑھ رہی تھی۔ دھیرے دھیرے ہم کُنڈا ہیل گلیشیر کے نزدیک بھی پہنچ رہے تھے۔ یخ بستہ ہوائیں گلیشیرز سے نکلتی ہیں اور ہڈیوںمیں پیوست ہوجاتی ہیں۔ ہم نے رات کُنڈا ہیل میں ہی گزارنی تھی۔

کیرچ تک پہنچتے پہنچے آخری چڑھائی ٹانگوں پر بہت بھاری ثابت ہوئی۔ تاہم خزان رسیدہ جنگل کے درمیان سے گزرتے ہوے آنکھوں کو فرحت بخشنے والے مناظر بھی بہت سارے تھے۔ منزل قریب ہو تو آخری مرحلے دشوار ہونے کے باوجود بھی آسان ہوجاتے ہیں۔ 

شکیل بدایونی نے کہا تھا کہ

مجھے آگیا یقین سا کہ یہی ہے میری منزل 

سرِ راہ جب کسی نے مجھے دفعتاً پُکارا 

کہا جاتا ہے کہ ان دلکش جنگلات اور قدیم  درختوں، جن کے پتوں سے خوشبوویں نکلتی ہیں، کے درمیان پریاں رہتی ہیں۔ ہماری بھی خواہش تھی کہ کوئی پری سامنے آکر ہمارا نام پُکارے۔ مگر، شام کے اس پہر اس دشتِ تنہائی میں ہمارا نام پُکارنے والے پری یا پری زاد کی موجودگی کے کوئی آثار نہیں تھے۔ 

پریوں سے آنکھیں چار کرنے کی خواہشِ نامراد کو دل میں دفن کرکے ہم چڑھائی چڑھتے رہے۔ چند منٹوں کے بعد ایک چھوٹے سے میدانی علاقے تک پہنچ گئے، جہاں لکڑی سے تعمیر شدہ خیمہ نُما پناہ گاہیں تھیں۔ انہی خیمہ نُما پناہگاہوں کو وخی میں کیرچ کہا جاتا ہے۔ اور انہیں میں سے ایک کے اندر ہم رات گزارنی تھی۔ 

سامان پھینکنے اور تھوڑی دیر سستانے کے بعد ذمہ داریوں کی تقسیم کی گئی۔ جلانے اور کھانا پکانے کیلئے سوکھی ٹہنیاں جمع کرنے کی ذمہ داری۔ کھانا پکانے کی ذمہ داری۔ برتن دھونے کی ذمہ داری۔ ایک عمودی ڈھلوان پر سے اترنے کے بعد اُس قدرتی چشمے سے بوتلوں اور دیگیچوں میں پانی لانے کی ذمہ داری، جس کے گرد زمین نرم و گداز ہے اور جس میں پاوں دھنسے جاتے ہیں۔ 

جون ایلیا نے کیا خوب کہا تھا کہ 

یہ خراباتیانِ خرد باختہ 

صبح ہوتے ہی سب کام پر جائیں گے۔ 

ہمیں تو کام پر جانے کے لئے صبح تک انتظار کی مہلت بھی نہیں ملی۔

اس جہانِ لطافت میں بھی جسمِ کثیف کی ضروریات سے نگاہیں نہیں پھیری جاسکتی ہیں۔

Friday, December 02, 2022

کیرچ میں ایک رات - دوسری قسط

 


سوست سے شمال مغرب کی جانب وادی چپورسن واقع ہے، جس کی سرحدیں آگے جا کر وخان (افغانستان) سے ملتی ہیں۔ لیکن ہمیں چپورسن وادی میں بہت آگے نہیں جانا تھا۔ دریا کنارے پُر خطر سڑک پر جاتے ہوے کئی بار خوف سے سانسیں رُک گئیں۔ اوپر پہاڑ، نیچے دریا اور سڑک کی حالت ایسی کہ ہر گام پر موت منہ کھولے انتطار میں بیٹھی ہے۔

بائیں ہاتھ پر تراخان نامی چراگاہ واقع ہے۔ چھوٹی سے جگہ ہے، دریائے چپورسن کے اُس پار۔ تھوڑی دیر آگے اک چھوٹے سے پُل سے گزرنے کے بعد ہمارا رُخ بائیں جانب ہوا، کیونکہ ہمیں آستانہ پنجہ شاہ کے قریب سے گزرتے ہوے اوپر جانا تھا۔ پنجہ شاہ کے بارے میں ایک بلاگ پہلے ہی لکھ چکا ہوں۔ تھوڑی دیر آستان کے ارد گرد تصویر کشی و طواف میں گزارنے کے بعد ہم آگے روانہ ہوگئے۔

یرزریچ نامی گاوں سے کچھ فاصلے پر گاڑی رُک گئی۔ اب ہمیں چار پہیوں سے دو ٹانگوں پر منتقل ہونا تھا۔ جہاں گاڑی رُکی اس کے نزدیک ہی کچھ قبریں ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ قدیم زمانے میں یہاں قرغیز رہائش پزیر تھے، یا اس علاقے میں بطور خانہ بدوش آتے جاتے رہتے تھے ۔ ، قبریں ان کی ہیں۔ واللہ اعلم! بظاہر خزانوں کے متلاشیوں نے بعض قبروں کو کھودنے کی بھی کوشش کی ہے۔ ان قبروں میں مدفون افراد کی باقیات ہمارے علاقے کی تاریخ کے امین ہیں ۔ ڈی این اے ٹیسٹنگ سے ان کے بارے میں بہت ساری معلومات حاصل کی جاسکتی ہیں۔ چند روز قبل ایک موقر میگزین میں پڑھا کہ آٹھ ہزار سال پرانی ہڈی سے حاصل کردہ معلومات کی بنیاد پر اُس قدیم خاتون کی ہو بہو شکل بھی آرٹفیشل انٹیلیجنس (مصنوعی ذہانت) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ یہ ہڈیاں ہمارے ماضی کی امین ہیں۔ انہیں بیکار سمجھنے کی غلطی سے گریز کرنی چاہیے۔ میر تقی میر نے بھی تو ہمیں بہت پہلے بتایا تھا کہ

کل پاوں ایک کاسہ سر پر جو آگیا

یکسر و استخوان شکستوں سے چور تھا

کہنے لگا کہ دیکھ کے چل راہ، بے خبر

میں بھی کبھو کسو کا سرِ پُرغرور تھا

اس مقام سے آگے ہم نے ذیشان کا شکریہ ادا کیا اور انہوں نے واپسی کی راہ لی۔ ہم سامان پیٹھ پر لاد کر ایک عمودی چڑھائی چڑھنے لگے۔ کچھ ہی قدموں میں سانسیں پھول گئیں تو خیال سینیما کے داروغہ نے کانوں میں سرگوشی کی، "کیا سوچ کر کوہ نوردی کرنے آئے تھے؟ "

مجھے اندازہ تھا کہ نیویارک میں پانچ سال گزارنے کے بعد پہاڑوں پر چڑھنا آسان بلکل بھی نہیں ہوگا۔ یہ الگ بات ہے کہ جس پر ہم چڑھ رہے تھے اُسے پہاڑ کہنا پہاڑوں کی توہین تصور کی جائے گی!

کورونا میں مبتلا ہونے اور ایک ماہ بستر پر پڑے رہنے کے بعد پھیپھڑوں کی صحت کے بارے میں شکوک وشبہات کا شکار ہوا تھا۔ خدشہ پیدا ہوا کہ شائد پھیپھڑے ساتھ نہیں دیں گے ! ٹانگیں بھی احتجاجاً رُک رُک کر چل رہی تھیں۔ لیکن میں نے دل میں ٹھان لیا تھا کہ کچھ بھی ہو کُنڈ ا ہیل پہنچ ہی جاوں گا!

ارد گرد نظر دوڑایا تو ہمسفر کڑیل جوانوں کی حالت بھی مجھ سے زیادہ مختلف نہیں تھی۔ سب کی سانسیں پھولی ہوئی تھیں۔ اُن کی حالت دیکھی تو حوصلہ بڑھا! آہستہ آہستہ ، یعنی ہر تین قدم کے بعد سانس لینے کے لئے رُکنے کے بعد، اوپر چڑھتے رہے۔ تصویریں لیں۔ بیٹھ کر عجیب و غریب ہیت و رنگ والے پہاڑوں پر غور کیا۔ حیران ہوے۔ وحشت بھی ہوئی۔ اتنے چھوٹے سے تو ہیں ہم انسان۔ ہماری کیا حیثیت اور مجال ؟ یہ پہاڑ اور پتھر اربوں سالوں سے اسی علاقے میں ہیں۔ ہم جیسے آتے جاتے رہتے ہیں۔ مشت بھر تو زندگی ہے ہماری۔ عاجز ی سیکھنا چاہتے ہو تو قدرت کو دیکھو! حیرت و وحشت سے عاجزی آ ہی جائے گی!

دائیں طرف پہاڑی پر ایک چوکی سی بنی ہوئی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ چوکیاں قرغیز حملہ آوروں پر نظر رکھنے کے لئے دفاعی اعتبار سے بنائے گئے تھے۔ ہم نے دور سے نظارے پر اکتفا کر لیا کیونکہ دن کے ایک بجے تھے اور ہمیں اندھیرا چھانے سے پہلے کُنڈا ہیل پہنچنا تھا۔



جو لوگ پہاڑوں پر جاتے ہیں انہیں معلوم ہے کہ جڑی بوٹیوں سے ایسی دلکش خوشبوویں آتی ہیں کہ روح شاداب ہوجاتا ہے۔ ہم بھی رنگوں اور خوشبووں کی اس دلکش مگر بنجر وادی سے پھولی سانوں اور دُکھتی ٹانگوں کے ساتھ چلتے چلتے پہاڑی کے اوپر پہنچ ہی گئے۔

یاروں نے خوشخبری سُنائی کہ "منزل مقصود آئی ہے قریب ۔۔۔۔ ساتھیوں آگے چلو بس چند گام"۔ یہاں منزل سے مراد ویر خُن نامی جگہ ہے۔ ویر خُن وخی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے "اکیلا گھر، یا خانہ تنہا"۔ یہاں رُک کر ہمیں سوست بازار سے خریدے ہوے پلاو پر ہاتھ صاف کرنا تھا۔

ویر خُن میں کچھ چرواہے موجود ہیں ۔بھیڑ بکریوں کی بہتات ہے۔ بہت سارے یاک (خوش گائے)بھی نظر آئے۔ لیکن کسی انسان کا نطارہ نہیں ہوا۔ وسیع و عریض وادی ہے۔ کسی زمانے میں، جب پانی یہاں تک پہنچتا تھا، کاشتکاری بھی ہوتی تھی۔ کھیتیاں بنی ہوئی ہیں، لیکن اب کھیتیوں کا انحصار برف اور بارشوں پر ہے ، اس لئے گھاس ہی اُگ پاتی ہے۔

ایک نسبتاً اونچے ٹیلے پر بیٹھ کر پلاو پر ہاتھ صاف کیا ۔ نظاروں کا لطف اُٹھایا۔ تھوڑی دیر سستانے کے بعد سفر کا دوبارہ آغاز کیا۔

- جاری ہے

 

 

کیرچ میں ایک رات - پہلی قسط

 


ہانپتے ہانپتے ہم یرزریچ کے مقام پر کچی سڑک تک  بالآخر پہنچ ہی  گئے۔ شام کی لالی پہاڑوں کے اس پار چلی گئی تھی اور اندھیروں نے وادی میں ڈیرا ڈال دیا تھا۔ تھوڑی دیر سڑک کنارے سستانے کے بعد مُڑ کر ڈھلوان کی طرف دیکھا تو فریاد صاحب بدستور غائب تھے۔ ذیشان مقررہ وقت کے قریب کار لے کر پہنچ گیا۔ کار کو دیکھنے کے بعد اتنی تسلی تو ہو گئی کہ رات یرزریچ میں نہیں گزرے گی۔ ذہنی طور پر ہم رات گزارنے کے لئے بھی تیار تھے، کیونکہ سوست تک پیدل پہنچنے میں گھنٹے لگ سکتے ہیں۔

 اُترائی پر پانچ گھنٹے کی ٹریکنگ کے بعد پاوں اُٹھائے نہیں اُٹھتے تھے۔ شاہد سلطان ہم سے بہت پہلے ہی چیتے کی رفتار سے چلتے ہوے پنہچ چکا تھا۔

اندھیرا بڑھ رہا تھا۔ پسینے سے شرابور جسم اب سردی محسوس کرنے لگے تھے۔  فریاد صاحب ، پیٹھ پر وائلن لادے ہوے، بدستور غائب تھے ۔ میری پریشانی کو بھانپتے ہوے شاہد اور فریاد نے تسلی دی کہ پہاڑوں کی یاترا کے دوران فریاد صاحب تسلی سے چلنے اور ارد گرد کے مناظر اور مظاہر پر غور کرنے کے عادی ہیں۔ اس لئے جلد یا بدیر پہنچ ہی جائیں گے۔ انتظار کرنے کے سوا چارا نہ تھا۔

اکتوبر 2022 کو شروع ہوے دس روز گزر چکے تھے۔ ہم کُنڈا ہیل نامی چراگاہ میں ایک قدیم خیمہ نُما چوبی جھونپڑی میں ایک رات گُزارنے کے بعد گھروں کو لوٹ رہے تھے۔

کُنڈا ہیل کیا چیز ہے بھلا؟

کُنڈا وخی میں بڑی لکڑی  (درخت) کو کہتے ہیں اور ہیل کا مطلب ہے چراگاہ۔ یعنی ایک ایسا چراگاہ جس میں بڑے درخت ہیں، جن میں سے بہت سارے سوکھ چکے تھے، اور بہت سارے کٹ کر سینکڑوں گھروں کی تعمیر میں استعمال ہوے ہیں۔ یہ چراگاہ گلمت کے باشندوں کی ملکیت ہے ۔ سوست نامی سرحدی قصبے سے تقریباً 50 کلومیٹر اندر چپورسن کی طرف یرزریچ نامی گاوں کے شمال مغرب میں واقع ہے۔ میں نے اس چراگاہ سے متعلق بہت کچھ اپنی نانی اور نانا سے سُنا تھا۔ نانی نے زندگی کے کئی سال یہاں بطور چرواہا گزارے تھے اور ان ایام کی باتیں کرتے ہوے ان کی آنکھوں میں چمک اور لہجے میں خوش جھلکنے لگتی تھی۔ کُنڈا ہیل جانا اور اس چراگاہ کو دیکھنے کی آرزو بڑے عرصے سے تھی۔ بیرون ملک پانچ سال گزارنے کے بعدسیاحتی حس مزید بیدار ہوئی۔ امید تھا کہ گاوں جانے کے بعد کچھ آوارہ گردی ضرور ہوگی۔ ہلکا سا خدشہ یہ بھی تھا کہ گاوں میں سارے دوست کاروبارِ زندگی میں مصروف ہوں گے ۔ اور اگر دوستوں کا ساتھ نہ ہوتو آوارہ گردی کو خواری میں بدلتے زیادہ دیر نہیں لگتی۔

خوش قسمتی سے گاوں میں دوستوں جیسے بھائی اور بھائیوں جیسے دوست موجود تھے۔ ہلکی پھلکی گفتگو کے بعد علی سرور ، فریاد اللہ ، شاہد سلطان  کے ساتھ مل کر پہلی سیاحتی پروگرام کا  فیصلہ ہوا۔ سلیپنگ بیگ، اشیائے خوردونوش،( یہاں نوش پر زیادہ غور مت کیجئے) اور تین تین شلواروں/پاجاموں /پتلونوں کے ساتھ ساتھ وائلن اور تُمبک کا بھی اہتمام کیا گیا۔  فیصلہ ہوا کہ ذیشان ہمیں یرزریچ تک کار میں لے جائے گا، جہاں سے ہم ٹریکنگ/ہائکنگ کرتے ہوے چار یا پانچ گھنٹوں میں جائے مقصود تک پہنچ جائیں گے۔ ایک رات گزارنے کے بعد اگلی شام کو ذیشان پھر ہمیں کار میں اُٹھانے کے لئے آستانہ پنجہ شاہ کا  طاق طواف کرتے ہوے واپس آئے گا۔

9 بجے روانگی کا منصوبہ تھا۔ 12 بجے کو اصل روانگی ہوئی۔ سوست سے لنچ پیک لے کر ہم چپورسن کی طرف روانہ ہوگئے ۔ فیصلہ یہ کیا گیا کہ لنچ "ویر خون"، وخی میں تنہا گھر، نامی جگہے پر کیا جائے گا۔

روداد کو مزید آگے لیجانے سے پہلے ذرا ہمسفر دوستوں کا مختصر تعارف لکھ دیتا ہوں۔

فریاد اللہ بیگ صاحب گلمت مین "سٹون ایج کیفے" چلاتے ہیں۔ شاعرانہ مزاج کے انسان ہیں۔ وائلن ہمیشہ ساتھ رکھتے ہیں۔ پہاڑوں میں گھومنا اور پتھروں پر غور و فکر کرنا ان کے مشاغل میں شامل ہیں۔

علی سرور صاحب ایک عالمی ترقیاتی ادارے میں بطور سپیشلسٹ کام کرتے ہیں۔ افریقہ اور دیگر ممالک میں کام کرنے کے بعد آج کل گھر سے ہی کام میں مصروف ہیں۔ شاعرانہ مزاج رکھتے ہیں۔ گلوکاری کا بھی شوق رکھتے ہیں۔ صیح معنوں میں سیلف میڈ شخصیت ہے۔

شاہد سلطان صاحب کراچی میں ایک لا فرم کے ساتھ کافی سالوں تک کام کرنے کے بعد اب کاروبار میں مصروف ہیں۔ پہاڑوں کو خوب جانتے ہیں اور اس سفر میٰں ہمارے گائیڈ تھے۔

راقم الحروف کا تعارف بس اتنا ہے کہ آوارہ خیالی اور آوارہ گردی کے درمیان ڈولتے رہنے کی خواہشِ نامراد کا مالک ہے۔

جاری ہے